وہ ہے اک میم کا پردہ وہی رنگے جمالی ہے!
یہ چلمن گنج مخفی ہے بڑی ہی راز والی ہے!!
نہیں جس کو محبت کملی والے سے وہ انساں کیا!
کرے وہ لاکھ سجدے عشق سے دل اسکا خالی ہے!!
قیامت میں محمد کو محمد خود نظر آئیں!
کہ دل کے آئینہ میں خود ہی اک عکس جمالی ہے!!
سر محشر کچھ اس انداز سے ان کو پکاروں گا!
میری آواز میں زاہد ذرا سوز بلالی ہے!!
غلام مصطفےا ہوں کوئی کیا ٹکر ائیگا مجھ سے!
مرا دل آئینہ ہے اور زباں میری کمالی ہے!!
بہت ہی فرق ہے ناصح تیری باتوں میں اور مجھ میں!
کہ میرا دین ایماں ہے ترا مذہب خیالی ہے!!
سمجھتا کیا ہے اے رضواں یہ دیوانہ ہے دیوانہ!
ارے نادان یہ داور محمد کا سوالی ہے!!