رخ سے اٹھ جائے پردہ میرے مکی مدنی!
دیکھ لوں آپ کا جلوہ میرے مکی مدنی!!
میں تو دیوانہ ہوں دیوانہ فقط احمد کا!
کیوں بنوں ایک تماشا میرے مکی مدنی!!
اور کیا چاہئے بس ایک نظر کافی ہے!
تمہیں ملجا تمہیں ماوا میرے مکی مدنی!!
یہ تمنا بھی کسی روز ہو پوری میری!
چوم لوں آپکا روضہ میرے مکی مدنی!!
آپ کے سائے کو ترسے گی زمیں تا ابد!
آپ ہیں نور سراپا میرے مکی مدنی!!
اپنی چھوکھٹ پہ کسی روز بلا لو مجھ کو!
سن لو فریاد یہ آقا میرے مکی مدنی!!
ایک ٹکڑا ہی غنیمت ہے یہ داور کے لئے!
تمہیں افضل تمہیں اعلئ میرے مکی مدنی!!