محمد مصطفےا دینگے رخ انوار کا صدقہ!
ہمارے واسطے کافی ہےان کے پیار کا صدقہ!!
غلامان محمد کی تمنا ہے تو اتنی ہے!
مقدر سے کبھی مل جائے بس دیدار کاصدقہ!!
دیار مصطفےا میں کہہ رہے ہیں انکے دیوانے!
خدا تو بھیج دے ہمکو شہیہ ابرار کا صدقہ!!
مدینہ کی گلی میں کاش قسمت سے جومل جائے!
میں آنکھوں سے لگالونگا میرے سرکار کا صدقہ!!
یہی ہے آرزو شمس و قمر کی روز اول سے!
عطا کردے الہی گیسوئے خمدار کا صدقہ!!
پریشاں حال ہیں گردش پہ تارے ماه انجم بھی!
خدا حصے میں ان کے بھیجدے رخسار کا صدقہ!!
محمد مصطفےا کی یاد سے غافل نہیں داور!
چھپا کر رکھ لیا ہوں دل میں اس دربار کا صدقہ!!