٣٩- ھمارے محمد

 

 

جو آئے ہیں اِنسان بنکر زمیں پر وہ نور خدا ہیں ہمارے محمد

شفاعت کے باعث یقینًا وہی ہیں وہی دلرُبا ہیں ہمارے محمد

 

بَلائیں مصیبت ٹلاتے وہی ہیں ہر ایک اُمتی کو بچاتے وہی ہیں

مریض مُحبت انہیں یاد کرلے وہ خود ہی دوا ہیں ہمارے محمد

 

خدا کی قسم ہے ہمارے محمد ہیں اول سے اول اور آخر سے آخر

وہ پردہ تو ہیں لیکن دِل کی زمیں میں حیات و بقا ہیں ہمارے محمد

 

نہیں اُنکا سایہ پڑا اس زمیں پر تو لازم نہیں ہے بشر انکو کہنا

وہ نور مجسم خدائی کے مالک وہ صلی اعلیٰ ہیں ہمارے محمد

 

اے زاھِد بتا دے تجھے کیا ہوا ہے تو نور خدا کو بشر کہہ رہا ہے

تو اندھا ازل کا نہیں انکو دیکھا وہ نور ھدی ہیں ہمارے محمد

 

خُدا جنکا عاشق خدا جنکا شیدا وہ مختار عَالم وہ نور مُجسم

انہیں اپنے جیسا سمجھنا گناہ ہے خُدا کے خُدا ہیں ہمارے محمد

 

بروز قیامت محمد کے پیچھے شفاعت کی خاطر سبھی ہونگے داور

کِیا جن سے مولا ہے بخشش کا وعدہ وہی مصطفے ہیں ہمارے محمد

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔