٣٨۔ چمکتی اوڑھنی

 

 

تھی ازل میں نور کی گو یا چمکتی اوڑ ھنی!

عرش پر قندیل تھی قندیل میں تھی اوڑ هنی!!

 

مصطف سمجھیں خدا جانے بس اسکی شان کو!

عرش سے جسدم یہاں تری جھلکتی اوڑھنی!!

 

صورت لا میں چھپی ہے اور الا سے ہے مقیم!

اوڑھ کرنکلے نبی صلے علی کی اوڑھنی!!

 

موت قبل انتا موتو اوڑھنی پر ہے لکھا!

لاء موت سے ہوئی زندہ انوکھی اوڑھنی!!

 

درج ہیں اس اوڑھنی میں پنجتن کے پانچ نام!

ہے  میرے سرکار کی کیا شان والی اوڑھنی!!

 

فاطمہ اوڑھے ہیی جس کو اور اوڑھے مرتضئی!

کل پیمبر اولیاء اوڑھے نرالی اوڑھنی!!

 

بیچ میں لکھا ہے جس کے یا محمد مصطفے!

اوڑھے ہیں داور خوشی سے وہ رفیقی اوڑھنی!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔