میں خاک ہوں رَسُول کے قدموں کی دھول ہوں
خَادِم ہوں خَاکسار ہوں اُمّت رسول ہوں
خوشبو رَسُول پاک کی دل میں بسے نہ کیوں
یشرب کے باغبان کے گلشن کا پھول ہوں
فرمانِ مُصطفے پہ یہ ہستی میری نثار
میں جَان بھی گنوا دوں گا ایسا اصول ہوں
اُمّت ہوں میں رسول کا کرتا ہوں پیروی
یہ ابتدا ہے عِشق کی اب سے نزول ہوں
میں نے کیا تھا وعدہ جو روز الست میں
دُنیا میں اسکو بھولا تو پھر بھی فضول ہوں
انسان کی صفت میرے اندر ضرور ہے
شیدائے پنجتن ہوں میں عشق رسول ہوں
داور کو حَالِ یاد ہے روحِ الست کا
اس واسطے میں سروری گھر کو قبول ہوں