مزمل کی ڈوری کا جھولا بنا کر جھلائے محمد کو دائی حلیمہ
سدا حمد مولا کی لوری سُنا کر سلائے محمد کو دائی حلیمہ
یتیمی کا احساس ہونے نہ دیکر کِئے پرورش وہ ہمارے نبی کی
جتا کر کے ممتا بھلائے یتیمی ہنسائے محمد کو دائی حلیمہ
میرے مُصطفے کے لڑکپن کے دِن تھے وہ بچوں کی صحبت میں کھیلتے تھے
فرشتے نے چیرا تھا لیٹا کے سینہ اٹھائے محمد کو دائی حلیمہ
خدا کی قسم ہے حلیمہ سے بڑھکر کوئی اور دائی جہاں میں نہیں ہے
بنا کر بچھونا وہ گودی میں اپنی سلائے محمد کو دائی حلیمہ
کلیجے سے اپنے لگا کہ نبی کو وہ پالے ہیں بچپن میں جان و جتن سے
کبھی دشمنوں کی نظر میں نہ لائے بچائے محمد کو دائی حلیمہ
عبادت سمجھکر کے خدمت کئے وہ یہ ہیں دو جہاں کے شفاعت کے باعث
امانت نبُوت کی انہوں نے سنبھالی سنبھالے محمد کو دائی حلیمہ
بڑی خوش نصیبی حلیمہ کی داور وہ رحمت عالم کی دائی بنیں ھیں
میری بھی شفاعت کرو یا محمد سنائے محمد کو دائی حلیمہ