٣٤۔ مجھے بھی بلانا

 

 

کبھی اپنے در پر مجھے بھی بلانا!

جبیں کے لئے چا ہئے آستانا!!

 

یونہی دور کب تک رہونگا میں آقا!

دیار مدینہ مجھے بھی دکھانا!!

 

نظر بند کی تو مدینے میں پہونچا!

تصوری میں ہے اب مرا آنا جانا!!

 

تمہیں ساقی حوض کوثر ہو آقا!

مجھےاپنے ہاتھوں سے ساغر پلانا!!

 

ہوں مشتاق دیدار میں مددتوں سے!

ذرا میری نظروں کو جلوہ دکھانا!!

 

جبین محبت جھکی جارہی ہے!

سلامت رہے آپ کا آستا نا!!

 

یہ دوری کہاں تک کے داور سبھالے!

صبا جاکے پیغام میرا سنانا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔