٣٣۔ ایسا اختر ہو نہیں سکتا

 

 

محمد مصطفے کا کوئی ہمسر ہونہیں سکتا!

سراپا نور کے کوئی برابر ہو نہیں سکتا!!

 

وہی مختار عالم ہے خدائی نازکرتی ہے!

کوئی اب دو سرا محبوب داور ہو نہیں سکتا!!

 

چمکنے کو چمکتے ہیں فلک پر سینکڑوں تارے!

سر محشر جو چمکے ایسا اختر ہو نہیں سکتا!!

 

ارے غواض یہ کوشش گراں بارہستی ہے!

سمندر میں وہ اک نایاب گوہر ہو نہیں سکتا!!

 

اگر بینائی ہے تو دیکھ ان کو دل کے مسکن میں!

یہ کس نے کہدیا وہ ماہ انور ہو نہیں سکتا!!

 

وہ اک انمول ہیرا ہے کسوٹی پر پرکھنا کیا!

کہ گوھر پھر بھی گوھر ہے وہ پتھر ہونہیں سکتا!!

 

غلامان محمد ہوں مجھے یہ فخر ہے داور!

سر محشر کبھی میں دیدہ تر ہو نہیں سکتا!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔