آستاں کو تیرے چھوڑ کر میں نہ جاؤنگا دیر و حرم
میں ازل ہوں سے شیدا تیرا تیری الفت ہے دل میں صنم
مجھکو اوروں کی حاجت نہیں اور دنیا سے کیا ہے غرض
دل میں ہے تیری دیوانگی میرے ہمدم خدا کی قسم
میرے رب سے مجھے واسطہ دل یہ کہتا ہے بے ساختہ
جَانِ جاں تو ہے میرا بلم ہو کرم ہو کرم ہو کرم
حُسن پیش نظر جب نہ ہو عاشقی کا مزہ کچھ نہیں
پائے بوسی کا تب ہے مزہ یار ہو روبرو کم سے کم
تیرے قدموں پہ سر رکھ دیا سارے سجدے ادا ہو گئے
اب مکمل ہوئی بندگی ورنہ ہوتا ہمیشہ یہ غم
میرے ہمدم میرے ہمنوا عشق تیرا ہی دل میں بھرا
لاج رکھلے میرے عشق کی ہے یہی التجا دم بہ دم
وقت سجدہ تو ہو سامنے یہ تو داور کی معراج ہے
سر جھکاؤں میں آگے تیرے میرے سجدوں کا رکھنا بھرم