یہ مُحمد نہیں ہے تو پھر اور کیا ابتدا کون ہے انتہا کون ہے
عرش پر بھی وہی فرش پر بھی وہی مصطفےٰ کے سوا دوسرا کون ہے
آپ اپنی ہی صُورت پہ شیدا ہوا خود ہی آدم بنا کر وہ ظاہر ہوا
ایک ہی شکل ہے عبد و معبود کی آئینہ کون ہے دیکھتا کون ہے
شوقِ دیدار حد سے جو بڑھتا گیا پاس بلوا یا محبوب کو معراز میں
اِس طرف بھی وہی اُس طرف بھی وہی مدعی کون ہے مُدعا کون ہے
سِلسلہ گفتگو کا جو چلنے لگا ایک آواز تھی ایک ہی ڈَھْنگ تھا
سب فرشتے یہ آپس میں کہنے لگے پوچھتا کون ہے بولتا کون ہے
آخرش راز گنج خفی کُھل گیا ایک ارادہ تھا فیکن سے ظاہر ہوا
احد و احمد میں ایک مِیم باطن رہا ظاہرہ کون ہے اور چھپا کون ہے
نحن اقرب کی آواز روزِ ازل کسی کی قسمت میں تھی کون تھا جانتا
عارفوں پر ہی عرفان ظاہر ہوا کون آدم بنا اور بسا کون ہے
اپنے آقا سے داور نے پوچھا کبھی راز کو راز رکھا تو کیا فائدہ
تو یہ آقا نے داور کو سمجھا دیا مصطفیٰ کون ہے اور خدا کون ہے