مرنا مجھے پسند ہے نہ جینے کی بات کر!
زاہد فقط تو مجھ سے مدینہ کی بات کر!!
یوں کشتیاں بہت ہی سمندر کے اس پاس!
طیبہ جو جاۓ ایسے سفینے کی بات کر!!
عطر و گلاب مشک کی خوشبو کا ذکر کیا!
نادان بس نبی کے پسینے کی بات کر!!
ساغر وہ لا کے جس میں شراب ظہورہ ہو!
واعظ توا پینے وعظ میں پینے کی بات کر!!
یاقوت ولعل ادر فیروزہ نہ چاہیے!
طیبہ کے اک چمکتے نگینے کی بات کر!!
میں عاشق نبی ہوں ذرا جان لے مجھے!
اے شیخ مجھ سے اب تو قرینے کی بات کر!!
داور ملا ہے فیض یہ آقا رفیق سے!
دنیا کی بات کر نہ دفینے کی بات کر!!