زمیں سے آسماں تک کیوں نہ ہو چرچا محمد کا !
قسم اللہ کی ہرشئے میں ہے جلوہ محمد کا !!
سرا پا نور بن کر آپ جب تشریف لے آئے !
نظر والوں نے بھی دیکھا نہیں چہرا محمد کا !!
احد ميں اور احمد میں بس اتنا فرق ہے زاہر !
نہ ہو تا میم تو اٹھتانتھا پردا محمد کا !!
گواہی کیوں نہ دے بتخانہ بھی آقا کی آمد کا !
حبل اور لات وعزانے پڑھا کلمہ محمد کا !!
شفا دست مبارک سے نہ ہرگز دور رہتی ہے !
ہوا اک آن میں بیمار بھی اچھا محمد کا !!
کرم کی اک نظر داور پہ بھی ہوجائے اب آقا !
اسے بھی کہتے ہیں سب چاہنے والا محمد کا !!