احمد کا راز سننے کو کیوں نیند آتی ہے !
غفلت ہے تم کو اور مجھے شرم آتی ہے !!
گرسیکھنا ہے علم تو میری طرف تو آ !
حکم رسول ہے یہی اور قول ذاتی ہے !!
احمد کا نام سن لیا دیکھا نہیں مگر !
دیکھا ہے زاہدا نہ سمجھ میں وہ آتی ہے !!
تیلی کا بیل سیدھا سڑک پر نہ جائیگا !
کوئل کی کو کو کب بھلا کوے کو بھائی ہے !!
روتے ہوے گئے ہیں یہ دنیا سے بوعلی !
من عرف علم تک نہیں یہ شرم آتی ہے !!
تن میں جو تیرا یار ہے اور دوسرا کہاں !
ظاہر کی یہ سمجھ تجھے غیرت دلاتی ہے !!
تیرے بدن میں جان میں تیرا نشان ہے !
غفلت کا جال آنکھ پہ کیا خوب ڈالی ہے !!
وہم وگماں کا کفر میرے دل میں آگیا !
ملکر تو اپنے یار سے وحشت بڑھائی ہے !!
دیکھو علی سے مصطفے فرمائے ہیں یہ کیا !
پہچانو خودکو عمر نہ یہ خالی جاتی ہے !!
ظاہر میں حج ہے کعبہ تو باطن میں تیرا دل !
رومی کی بولی آج زباں پر یہ آئی ہے !!
دیکھو حدیث قلب ہے مومن کا عرش اللہ !
داور قلم کو روکو کہ پتھر بچھائی ہے !!