٢٣- راہبر پسند کیا

 

 

مکین نے رہنے کو ہے چشم تر پسند کیا

یہ کیسی بات ہے پانی میں گھر پسند کیا

 

وہ پتھروں کو یقین بولنا سکھاتا ہے

بڑا کمال ہے ایسا ہنر پسند کیا

 

ہزاروں صدیوں سے وہ اک جگہ نہیں رہتا

مسافروں کی طرح ہے سفر پسند کیا

 

تیرے کمال کا اندازہ کیا کرے کوئی

نظارے دیکھنے سب کی نظر پسند کیا

 

تلاش یار میں در در کی خاک جو چھانا

وہ حق صفات کو کیوں دار پر پسند کیا

 

ہر ایک دل کی حقیقت کو جاننے والا

نرالی بات ہے شیشے کا گھر پسند کیا

 

بڑے کمال سے کی انتخاب داور نے

ہزاروں لاکھوں میں ایک راہبر پسند کیا

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔