٢٣۔ حلوہ بناؤنگی

 

 

من عرف کے میں علم سے حلوہ بناؤنگی ۔ حلوہ بناؤنگی !

قد عرف کے مریض کو میں خود کھلاؤنگی ۔ میں خود کھلاؤنگی !!

 

نحن و کی جڑ کو اپنے ہی ہاتھں سے کوٹ کر !

زیتوں اور طوبی کا رس اس میں ڈلاؤنگی ۔ میں اس میں ڈلاؤنگی !!

 

احمد نگر سے لاؤنگی بادام پستہ میں !

چھلکا حسد و بعض کا میں خود نکالؤگی ۔ میں خود نکالؤنگی !!

 

ساتوں صفت کی سونٹ کو میں کوٹ چھان کر !

وحدت کی ایک ڈنڑی سے اس کو ہلاؤنگی ۔ اسکو ہلاؤنگی !!

 

چولھے پہ میں طریق کے رکھ دونگی دیگ کو !

عشق نبی کی آگ میں ٹھنڈا پکاؤنگی میں ٹھنڈا پکاؤنگی !!

 

ڈالونگی میوے میں توالف لام میم کے !

حکمت سے میں توصبر کی شکر ملاؤنگی ۔ شکر ملاؤگی !!

 

تیار ہوگا پک کے جو حلوہ یہ دیگ میں !

ہاتھوں سے میں مریض کو اپنے کھلا ونگی ۔ اپنے کھلا ؤنگی !!

 

سب کھاؤ شوق وذوق سے پرہیز ایک ہے !

بیگن جو ہے گناہ کا دل سے نکلاونگی ۔ دل سے نکالونگی !!

 

دن رات اور صبح کو کھانا ہے یہ دوا !

دل میں بھرا ہے کینہ اسے بھی نکلاونگی ۔ اسے بھی نکلاونگی !!

 

میرے رفیق علی نے یہ نسخہ دیا مجھے !

احسان کیسے ان کا میں داور بھلاونگی – داور بھلاونگی !!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔