٢١۔ بچہ بغل میں

 

 

خدا خود چھپا ہے یہ تن کے نگر میں !

ہے بچہ بغل میں ڈھنڑورا شہر میں !!

 

ابھی نحن و اقرب کو سمجھا نہیں ہے !

کبھی غور سے خود کو دیکھا نہیں ہے !

پتہ آپ اپنے کا پایا نہیں ہے !

تو اک خاک کا صرف پتلا نہیں ہے !

توکچھ اور ناداں ہے شکل بشر میں !

ہے بچہ بغل میں ڈنڈورا شہر میں !!

 

خدا کا بھی دیدار تجھ کو کہاں ہے !

توجو کچھ ہے جیسا ہے تیرا جہاں ہے !

 تیرے واسطے یہ زمیں آسماں ہے !

کبھی تونے سوچا ترا رب کہاں ہے !

اسے تو نہ رکھا ہے اپنی نظر میں !

ہے بچہ بغل میں ڈھنڑورا شہری میں !!

 

تو کعبہ گیا اور کاشی گیا ہے !

کلیسا کی چوکھٹ پہ الجھا رہا ہے !

تو مندر میں بت نمستے کیا ہے !

یہ سب کرنے پر بھی خدا نہ ملاہے !

جیسے ڈھونڑ تا ہے وہ ہے تیر گھر میں !

ہے بچہ بغل میں ڈھنڑورا شہر میں !!

 

تو چھتیس جالوں کے اندر پھسا ہے !

تو لا اور الا کے بے نکتے میں کیوں ہے !

نہ تجھ کو ملی گنج مخفی کی راہے !

تو ذاکر بنا فکرمیں ڈوبتا ہے !

وہ سلطان داور کی ہے چشم تر میں !

ہے بچہ بغل میں ڈھنڑورا شہر میں !!

 

 

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔