خدا خود چھپا ہے یہ تن کے نگر میں !
ہے بچہ بغل میں ڈھنڑورا شہر میں !!
ابھی نحن و اقرب کو سمجھا نہیں ہے !
کبھی غور سے خود کو دیکھا نہیں ہے !
پتہ آپ اپنے کا پایا نہیں ہے !
تو اک خاک کا صرف پتلا نہیں ہے !
توکچھ اور ناداں ہے شکل بشر میں !
ہے بچہ بغل میں ڈنڈورا شہر میں !!
خدا کا بھی دیدار تجھ کو کہاں ہے !
توجو کچھ ہے جیسا ہے تیرا جہاں ہے !
تیرے واسطے یہ زمیں آسماں ہے !
کبھی تونے سوچا ترا رب کہاں ہے !
اسے تو نہ رکھا ہے اپنی نظر میں !
ہے بچہ بغل میں ڈھنڑورا شہری میں !!
تو کعبہ گیا اور کاشی گیا ہے !
کلیسا کی چوکھٹ پہ الجھا رہا ہے !
تو مندر میں بت نمستے کیا ہے !
یہ سب کرنے پر بھی خدا نہ ملاہے !
جیسے ڈھونڑ تا ہے وہ ہے تیر گھر میں !
ہے بچہ بغل میں ڈھنڑورا شہر میں !!
تو چھتیس جالوں کے اندر پھسا ہے !
تو لا اور الا کے بے نکتے میں کیوں ہے !
نہ تجھ کو ملی گنج مخفی کی راہے !
تو ذاکر بنا فکرمیں ڈوبتا ہے !
وہ سلطان داور کی ہے چشم تر میں !
ہے بچہ بغل میں ڈھنڑورا شہر میں !!