ھوالاول ھوالاخر سے ظاہر ہوگیا ہوں میں !
میں اپنے آپ ہی پردہ کے باہر ہوگیا ہوں میں !!
دلیل اینمانے راز میرا کھول کر رکھا !
صدف میں ایک قطرہ سے وہ گوھر ہو گیا ہوں میں !!
شہادت کے لئے انتا انا کا راز کافی ہے !
مجسم آپ میں ہی آدم کا پیکر ہوگیا ہوں میں !!
یداللہ فوق ایدیھہم گواہی خود یہ میری ہے !
اسی الفاظ سے بالا و برتر ہو گیا ہوں میں !!
ہے آیا راس مجھ کو مخزن گنج خفی لیکن !
الانسان سری سے ظاہر ہوگیا ہوں میں !!
من عرف نفس ھو میں جس گھڑی گم ہوگیا تھا میں !
قد عرف رب ھو سے آپ باہر ہوگیا ہوں میں !!
بنایا میں نے آدم کو ہے میری داوری داور !
اسی روز ازل سے سب کا داور ہوگیا ہوں میں !!