١٨۔ تو اور نہیں میں اور نہیں

 

 

محبوب کو یہ بلوا کے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں !

اٹھ جاۓ گا فرق انتا انا تو اور نہیں میں اور نہیں !!

 

جس وقت گئے جبرئیل امیں نعلین کو بوسہ دیکے کہا !

سرکار خدا سے میں نے سنا تو اور نہیں میں اور نہیں !!

 

براق پہ بیٹھے پیارے نبی جب پہچے مقام سدرہ پر !

پردے سے یہی آتی تھی ندا تو اور نہیں میں اور نہیں !!

 

فرمایا خدا نے نور ہو تم معراج کی شب ہے دور ہو تم !

ہے کون یہاں دونوں کے سوا تو اور نہیں میں اور نہیں !!

 

میں احد اگر ہوں تم احمد ہو میم کا پردہ اٹھنا ہے !

تو مجھ میں چھپا میں تجھ میں بسا تو اور نہیں میں اور نہیں !!

 

جو تم ہو وہی تو میں ہی ہوں وہی تو تم ہی ہو !

یہ راز ازل ہی سے ہے کھلا تو اور نہیں میں اور نہیا !!

 

اک چیز جدا کب ہوتی ہے اک نور الگ کب ہوتا ہے !

معرج میں خود داور نے کہاں تو اور نہیں میں اور نہیا !!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔