١٧- خزانہ ہے زندگی

 

 

مالک نے ہم تمام کو بخشا ہے زندگی

سچ بات تو یہی کہ تحفہ ہے زندگ

 

یہ زندگی بطور امانت ہے سب کے پاس

لوٹا نا سب کو پڑتا ہے قرضہ ہے زندگی

 

ہم کو خدا نوازہ ہے یہ زندگی انعام

مقصد خدا کا جان کے کرنا ہے زندگی

 

یہ زندگی کسی کو بھی قائم نہیں مگر

ایک دن تو سب کو چھوڑ کے جانا ہے زندگی

 

آئے جہاں سے لوٹ کے جانا ہے پھر وہیں

لیکن یہ زندگی کو بچانا ہے زندگی

 

جو زندگی کو موت کے ہاتھوں بچا لیا

تا حشر زندہ رہتا ہے کرتا ہے زندگی

 

جو زندگی پہ قبضہ جمایا ہے وہ بچا

 ورنہ تو موت ہی کا نوالہ ہے زندگی

 

مالک نے اپنی جان کو ہم میں ہے رکھ دیا

اس جان آفریں کا خزانہ ہے زندگی

 

داور نے زندگی کو نئی زندگی دیا

مرقد کا اپنے ساتھی بنایا ہے زندگی

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔