کیا لطف آئے گا مجھے داور نماز میں !
ہے وسہ وسہ گمان یہ ظاہر نماز میں !!
سجدوں میں جب مزہ ہے کہ تو روبرو رہے !
ہو جائے تو شریک برابر نماز میں !!
میری زباں پہ لا ہو تیرے لب پہ ہو إلا !
قائم کریں گے دونوں یہ ملکر نماز میں !!
وقت قیام میری نظر میں ہو عکس رب !
وقت سجود تو بھی ہو اکثر نماز میں !!
وحدت سے تونکل کے جو کثرت میں آ گیا !
حیران آئینہ ہے دکھا کر نماز میں !!
تنہائی کی نماز میں کچھ فائدہ نہیں !
شامل نہ جب تلک ہو تو آکر نماز میں !!
پہونچا ہے اس مقام پہ میرا سجود شوق !
میں خود کو دیکھ لیتا ہوں داور نماز میں !!