١٦۔ ظاہر نماز میں

 

 

کیا لطف آئے گا مجھے داور نماز میں !

ہے وسہ وسہ گمان یہ ظاہر نماز میں !!

 

سجدوں میں جب مزہ ہے کہ تو روبرو رہے !

ہو جائے تو شریک برابر نماز میں !!

 

میری زباں پہ لا ہو  تیرے لب پہ ہو إلا !

قائم کریں گے دونوں یہ ملکر نماز میں !!

 

وقت قیام میری نظر میں ہو عکس رب !

وقت سجود تو بھی ہو اکثر نماز میں !!

 

وحدت سے تونکل کے جو کثرت میں آ گیا !

حیران آئینہ ہے دکھا کر نماز میں !!

 

تنہائی کی نماز میں کچھ فائدہ نہیں !

شامل نہ جب تلک ہو تو آکر نماز میں !!

 

پہونچا ہے اس مقام پہ میرا سجود شوق !

میں خود کو دیکھ لیتا ہوں داور نماز میں !!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔