١٦١۔ سلام کرتا ہوں شاہ علم

 

 

ادب سے آکر یہ سر جھکا کر سلام کرتا ہوں شاہ عالم!

سنہری جالی کو آقا پاکر سلام کرتا ہوں شاہ عالم!!

 

یہ سبزگنبد یہ پیارا روضہ زمیں پہ خلد بریں کا جلوہ!

تجلیوں کو یہاں پہ پاکر سلام کرتا ہوں شاہ عالم!!

 

لگاؤں آنکھوں سے خاک طیبہ بچھاؤں راہوں میں اپنی پلکیں!

ہر ایک ذرہ اٹھا اٹھا کر سلام کرتا ہوں شاہ عالم!!

 

میری حقیقت تو کچھ نہیں ہے کرم نہیں ہے تو اور کیا ہے!

تمہارے درتکے  رسائی پاکر سلام کرتا ہوں شاہ عالم!!

 

ارم کی حسرت نہیں ہے مجھ کو نہ باغ جنت کی آرزو ہے!

گلی مدینہ کی یہ بساکر سلام کرتا ہوں شاہ عالم!!

 

میں بے نواۓ خراب ہستی رہا ہوں ابتک میں زیر پستی!

مقدر اپنا یہ اونچا پاکر سلام کرتا ہوں شاہ عالم!!

 

گوہر بنا ہے میرا منور رفیق بن کر ہے ساتھ دلبر!

یہ سب کو داور میں در پہ لاکر سلام کرتا ہو شاہ عالم!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔