کیوں لوں وسیلہ غیر کا یہ کیسی بات ہے
روشن کتاب ساتھ ہے راہ نجات ہے
شہ رگ سے دور تو نہیں مولائے کائنات
دل کو بنا کے گھر میرا رب میرے ساتھ ہے
ٹھنڈک نماز آنکھوں کی معراج ہے میری
احمد احد ہے سامنے شب برات ہے
آقا تو سامنے میرے رہتا ہے ہر گھڑی
مجھ کو غرض اسی سے بقا جس کی ذات ہے
سرکار مصطفیٰ کا وسیلہ سے لازمی
رہبر نہیں تو بندے کو شیطاں کی گھات ہے
کامیل یہاں پہ ملنا تو دشوار ہے بہت
آساں ہے رب کو پانا مشکل بھی بات ہے
داور کو زندگی ہے لگی خواب کی طرح
زندہ ہوں تا حشر میں خدا میرے ساتھ ہے