ملیگا تجھے گنج گوہر سے سجدہ !
رفیقی خلیفہ یہ داور سے سجدہ !!
ضروری ہے سجدہ میں رب سامنے ہو !
ذرا سیکھ لے تو منور سے سجدہ !!
قضا اک نماز اپنی ہوتی نہیں ہے !
عطا ہو گیا ہم کو دلبر سے سجدہ !!
جو کامل ہے مرشد وہی جانتا ہے !
کہ سرکے لئے کس کے ہے درسے سجدہ !!
کیا سجدہ مرشد کو کیا ہے برائی !
کہ پتھر بھی لیتا ہے پتھر سے سجدہ !!
کٹایا ہے سجدہ میں شبیر نے سر !
نہ کیوں مانگ لیں ہم اسی سر سے سجدہ !!
تو کرتا ہے سجدہ یہ سجدہ ہے کس کا !
نہ سمجھا تو جا پوچھ داور سے سجدہ !!