میں اپنے سر کو جھکا کر سلام کہتا ہوں!
خودی کو اپنی مٹاکر سلام کہتا ہوں!!
میں بارگاہ رسالت میں با ادب ہوکر!
دوئی کے پردے ہٹا کر سلام کہتا ہوں!!
قبول کیجیے یا مصطف میری فریاد!
تمہیں کو دل میں بسا کر سلام کرتا ہوں!!
فنا کی حد سے گزر کر بقا میں آیا ہوں !
میں اپنے سر کو کٹا کر سلام کہتاہوں!!
فرشتہ جان سکا آمنہ کے لال کے ساتھ!
میں اس مقام پہ آکر سلام کہتا ہوں!!
تیرے جمال سے روشن ہے میرا سینہ و دل!
تجھے نظر میں سما کر سلام کہتا ہوں!!
نگاہ یار سے جلواہ ملا نگاہوں کو!
یہ جان تجھ پہ لٹاکر سلام کہتاہوں!!
تمام انبیاء پی کر ہوئے جسے سرشار!
وہ ایک جام اٹھاکر سلام کہتا ہوں!!
دیار پاک میں داور ہی اک نہیں تنہا!
رفیق آقا کو لاکر سلام کہتا ہوں!!