سکوں ملیگا مدینے میں ہی چیلو درودوں کا ہار لیکر!
حبیب داور رفیق سرور کے در پہ پہونچو بہار لیکر!!
گرے ہی کسرہ کے چودہ کنگرے ہوئے جو پیدا ہمارے آقا!
خدا بھی بھیجا درود ان پر کہ نام وه نامدار لیکر!!
لٹادو اپنی متاع ہستی زمانے بھر میں وہ ہیں منور!
وہی ہیں نایاب ایک گوہر قدم میں جاؤ پکار لیکر!!
یہی ایک تحفہ درود کا ہے قبول کیجے شہہ دو عالم!
تمهاری چوکھٹ پہ آگئے ہیں ہم اپنے دل کا قرار لیکر!!
تمہیں ہو فخر زمان یقینًا خدائی ساری ہےتم پر قرباں!
دورود پڑھتے ہیں مسلماں یا مصطف بار بار لیکر!!
گلی مدینہ کی راس آہی گئی غریبوں کے دل کو آقا!
نہیں ہے فردوس کی تمنا کریں گے کیا وہ دیار لیکر!!
خدا نے انتا آنا کہا ہے کہاہے پھر وہ آنا بھی انتا!
خدا کہوں یا نبی کہوں میں پکاروں پرور دگار لیکر!!
ادب کی جاہے ادب ہی کرنا فلک بھی تعظیم کر رہا ہے!
درود صلے علی ہو لب پر مدینہ کی سب بہار لیکر!!
قبول کیونکر نہ ہوگی داور تمہارے لب سے درود نکلے!
رفیقی گھر کا چراغ ہو تم تجلیوں کی بہار لیکر!!