١٤- قبر ہی ٹھکانا ہے

 

 

کام نہ کرو ایسے پھر سے کر دکھانا ہے

جا کے حال دل اپنا پھر اسے سنانا ہے

 

جس نے زندگی بخشا موت بھی وہی دیگا

زندگی بھی دھوکا ہے موت بھی بہانا ہے

 

زندگی ہے دو روزہ کھیل اس زمانے کا

بعد زندگانی کے قبر ہی ٹھکانا ہے

 

اس نے زندگی دیکر قول یہ لیا ہوگا

جب بھی میں بلاؤں گا تم کو چل کے آنا ہے

 

سانس کے بھرو سہ پر زندگی سبھی کی ہے

فانی زندگانی ہے کیا اسے کمانا ہے

 

سب یہاں مسافر ہیں یہ جہاں سرایہ ہے

یہ تمہیں نہیں قائم اسکو چھوڑ جانا ہے

 

فکر آخرت داور تم کبھی نہیں بھو لے

یاد ہے سدا تم کو رب کو منہ دکھانا ہے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔