سلام پڑھتے ہیں سر جھکا کر خوشی سے لیلو سلام اپنا!
رفیق سرور حبیب داور خوشی سے لیلو سلام اپنا!!
کھڑے ہیں در پر غلام اپنے یہ سب کے سب ہیں تمام اپنے!
کرم کی بس اک نظر ہو ہم پر خوشی سے لیلو سلام اپنا!!
ہمارا سر ہے قدم پہ اپنے کہ جی رہے ہیں کرم پہ اپنے!
بنائیں گے ہم یہیں مقدر خوشی سے لیلو سلام اپنا!!
ملے غلامی جو در کی اپنے مرید سارے قبول کر لیں!
ہو سروری کے تمہیں سمندر خوشی سے لیلو سلام اپنا!!
تمہارے ہاتھوں سے ایک ٹکڑا ملا تو اپنا نصیب چمکا!
غریب ہم ہیں تمہیں تونگر خوشی سے لیلو سلام اپنا!!
تمہارے در پر جو کوئی آیا گیا نہ خالی کبھی وہ آقا!
ہماری بگڑی بنادو دلبر خوشی سے لیلو سلام اپنا!!
رفیق تم ہو شفیق تم ہو تمہیں ہو گوھر تمہیں منور!
پکارتے ہیں تمہیں کو داور خوشی سے لیلو سلام اپنا!!