١٤٠۔ درود تم پر سلام تم پر

 

 

تمہیں ہو میرے رفیق داور درود تم پر سلام تم پر!

تمہیں ہو گوھر تمہیں منور درود تم پر سلام تم پر!!

 

بھنور میں کشتی گھری ہوئی ہے نظر نظر میں ہے موج طوفاں!

سہارا دیدو خدارا آکر درود تم پر سلام تم پر!!

 

کئے ہیں مردہ دلوں کو زندہ کہاں یہ رتبہ کسی کو حاصل!

شفیع ہمارے ہو روز محشر درود تم پر سلام تم پر!!

 

وسیلے والوں کوغم نہیں ہے تمہارا کس پر کرم نہیں ہے!

ملے گا ہم کو بھی جام کوثر درود تم پر سلام تم پر!!

 

نماز جتنی قضا ہوئی تھی امام بن کر پڑھا چکے ہو!

سجود میں ہے ہمارا پیکر درود تم پر سلام تم پر!!

 

جو بوجھ سر پر گناہ کا تھا اتارا تم نے بنا کے اپنا!

زمانے بھر میں نہ تم سا دلبر درود تم پر سلام تم پر!!

 

رفیق پیارے عرش کے تارے تمہیں نے قسمت سنواری سب کی!

پکارتے ہیں تمہیں کو داور درود تم پر سلام تم پر!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔