میرے قادر یہی التجا ہے میری وقت نزع نظر آستاں پر رہے
جسم سے روح جس وقت نکلے میری کلمہ مصطفیٰ ہی زبان پر رہے
ذکر لب پر ہو رب العلیٰ کا سدا رو برو میرا مسجود موجود ہو
میرا دل ہو سدا مثل روشن شمع میری آنکھیں و دل ضوفشاں پر رہے
میرا دلبر سدا ہو میرے ساتھ میں ان کا دامن سدا ہو میرے ہاتھ میں
وصل ہوتا رہے مجھ سے ہر حال میں میں جہاں بھی رہوں تو وہاں پر رہے
میں نہ تجھ سے جُدا تو نہ مجھ سے الگ زندگی بھر رہا تو میرے سنگ سنگ
تو تو ہر وقت تھا میرے نزدیک تر اور رکھ ساتھ میں تو جہاں پر رہے
کیا نکیریں کریں آکے مجھ سے سوال ساتھ میں جبکہ خود ہے میرا ذوالجلال
ان میں آدم ہے کون کون رب العلیٰ دیکھ کر ہم کو دونوں گماں پر رہے
میرا آقا تو مجھ میں رہا اس طرح جس طرح گل میں خوشبو رہی پوشیدہ
تجھ کو ظاہر کبھی میں نہ ہونے دیا ہم زمیں پر رہے آسماں پر رہے
میں رہا سروری تو رہا قادری جیسے گوہر منور کا لطف و کرم
ہم رفیقی ہیں داور ہمیں ناز ہے اس لئے کہ ہمیں ہر زباں پر رہے