کرم ایکبار ہو جاۓ محی الدین جیلانی!
نظر سرکار ہو جاۓ محی الدین جیلانی!!
تمنا ہے اگر دل میں تو بس اتنی تمنا ہے!
مجھے دیدار ہو جاۓ محی الدین جیلانی!!
میں کہلاؤں اگر بیمار تو بس آپ کا آقا!
مرض ہر بار ہو جاۓ محی الدین جیلانی!!
سخاوت آپ کے گھر کی ولایت آپ کے گھر کی!
کوئی سر شار ہو جاۓ محی الدین جیلانی!!
جدھر بھی دیکھتا ہوں تو تلاطم موج وطوفاں ہے!
یہ کشتی پار ہو جاۓ محی الدین جیلانی!!
تمہارے آستانے پر جبین شوق ہو میری!
سجود یار ہو جاۓ محی الدین جیلانی!!
پلادے مست آنکھوں سے کبھی داور کو یا شاہ!
ترامیخوار ہو جاۓ محی الدین جیلانی!!