کیا نہیں ملتا ہے ہم کو پیر لاثانی کے پاس!
رب اکبر کا ہے جلو وغوث جیلانی کے پاس!!
اک نظر میں چور کو ابدال کا رتبہ ملا!
یہ ہے اک ادنی کرامت قطب ربانی کے پاس!!
چھین لی زنبیل عزرئیل سے اک آن میں!
موت بھی حیران تھی محبوب سبحانی کے پاس!!
دولھا دلہن لوٹ آے بارہ برسوں کے بھی بعد!
سانس لیتا ہے کرشمہ کامل انسانی کے پاس!!
ایک قطرہ ہی سہی لیکن بقا ہے جلوہ گر!
سارے دریا ہیچ ہیں بغداد کے پانی کے پاس!!
پینے والو شرط ہے آنا نہ ہرگز ہوش میں!
ہے شراب معرفت حسنین کے جانی کے پاس!!
غوث اعظم کے ازل سے چاہنے والوں میں ہوں!
ہم کبھی آۓ نہیں داور پریشانی کے پاس!!