١٣٧۔ آپکا دامن محی الدین جیلانی

 

 

میری مشکل کرو آساں محی الدین جیلانی!

تمہارا ہوگا یہ احساں محی الدین جیلانی!!

 

زمانہ چھوٹ جاۓ ہم سے تو پروا نہیں ہمکو!

نہ چوٹے آپ کا داماں محی الدین جیلانی!!

 

سفینے کو لگا دو ایک دن ساحل سے اے آقا!

کہ ہے حد نظر طوفاں محی الدین جیلانی!!

 

تمہاری یاد سے اک پل بھی غافل میں نہیں رہتا!

کہ ہے جینے کا یہ ساماں محی الدین جیلانی!!

 

اٹھاؤں ذرہ میں بغداد کی گلیوں کا پلکوں سے!

یہی ہے دل میں اک ارماں محی الدین جیلانی!!

 

مجھے بھی آپ کے در کی غلامی کاش ملجاۓ!

کئے ہو سب پہ تم احساں محی الدین جیلانی!!

 

طریق قادری و سروری سے میں ہوں وابستہ!

نہ ہو داور کبھی حیراں محی الدین جیلانی!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔