رنج والم سے بھی آزاد کرنا!
غوث الورا میری امداد کرنا!!
شاہ دوعالم کے دلبر تمہیں ہو!
غوث زماں شان حیدر تمہیں ہو!
زہرہ کی آنکھوں کے گوھر تمہیں ہو!
میراث شبیر و شبر تمہیں ہو!
مجبورو بیکس کو تم شاد کرنا!
غوث الوار میری امداد کرنا!!
یا غوث لاکھوں کی بگڑی بنائی!
کشتی جو ڈوبی تھی اس کو ترائی!
چور کو تم نے حق ہے ابدال بنائی!
ٹھوکر سے مردہ میں بھی جان آئی!
ہم کو بھی آتا ہے فریاد کرنا!
غوث الوار میری امداد کرنا!!
ہم بھی تو بن کر کے آۓ سوالی!
پلکوں سے چومیں گے روضہ کی جالی!
مایوسی در سے نہ جائیں گے خالی!
ہے شان ولیوں میں سب سے نرالی!
ہرگز نہ آپ ہم کو ناشاد کرنا!
غوث الوار میری امداد کرنا!!
شان کرم مجھ پہ اکبار کر دو!
داور کے دامن کو یا غوث بھر دو!
اکے آقائے داور کو اپنی نظر دو!
داور کی باتوں میں آقا اثر دو!
ہر دم داور کو تم شاد کرنا!
غوث الوارا میری امداد کرنا!!