١٣٣۔ علی مرتضی

 

 

کرم کی اک نظر مجھ پر میرے مشکل کشا کر دو!

 میرے دشواریاں آسان یا شیر خدا کر دو!!

 

ہوائیں تیز چلنے لگ گئی ہیں زور طوفاں سے!

 میری  کشتی سر ساحل علئ مرتضی کردو!!

 

تمہیں وہ ہو نکالے تیل مٹی کی بھی ہستی سے!

نظراک بو تراب جانشین مصطفے کردو!!

 

علی ہو اور ولی ہو علم کے تم شہر کا در ہو!

کرم اتنا خدا کے واسطے شیر خدا کر دو!!

 

در خیبر اکھاڑ ایک ہی نعرہ میں وہ تم ہو!

مجھے تھوڑی جرات آپ اپنے سے عطا کر دو!!

 

میں آکر چوم لوں روضہ کی جالی اپنی آنکھوں سے!

وہاں کے واسطے ہم وار میرا راستہ کر دو!!

 

سخاوت آپکے گھر کی شجاعت آپکے گھر کی!

نگاہیں اپنے داور پر زرا مشکل کشا کردو!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔