١٣جان لے رے بابا

 

 

مرنے سے پہلے خود کو ذرا جان لے رے بابا !

اپنے وجود ہستی کو پہچان لے رے بابا !!

 

ہے کون تیرے تن میں بسا نام کیا ہے اس کا !

اس کا مکان کیسا اور کام کیا ہے اس کا !

کیا روپ اس نے دھارا ہے پیغام کیا ہے اس کا !

آغاز کس طرح کا ہے انجام کیا ہے اس کا !

 

مرشد سے اپنے اس کو ذرا جان لے رے بابا !

اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے بابا !!

 

پہچانتے ہو اس کو تو اس کا مکان بولو !

کرتا ہے بات تم تواس کی زبان بولو !

تم جیساوہ بھی رکھتا ہے باطن کا کان بولو !

تن میں تمہارے کس جگہ اس کا نشان بولو !

 

مرشد ہی یہ بتاۓ گا تو جان لےرے با با !

اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے با با !!

 

پڑھتا ہے کس کا کلمہ وہ قرآن اس کا کیا ہے !

رب کس کو مانتا ہے وہ ایمان اس کا کیا ہے !

کیا کیا غذا ہے اس کی اور پہچان اسکی کیا ہے !

وہ کس کی بندگی میں ہے رحمان اس کا کیا ہے !

 

مرشد سے گنج مخفی ذرا جان لےرے بابا !

اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے بابا !!

 

اس کا سجود کس کو ہے اس کا قیام کیسا !

مسجد ہے کس نمونہ کی اس کا امام کیسا !

اس کا وظیفہ کونسا اس کا کلام کیسا !

منہ پھیرتا ہے کس کی طرف اور سلام کیسا !

 

اس کی نماز پیر سے تو جان لےرے با با !

اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے با با !!

 

وہ کون اور کیا ہے اسے جان کر ہیں بیٹھے !

کیا روپ اور شکل ہے پہچان کر ہیں بیٹھے !

ہم اپنے تن میں اس کو مہمان کر ہیں بیٹھے !

اس کے پجاری ہی ہمیں بھگوان بنکر بیٹے !

 

داور علی سے تو بھی ذرا جان لےرے بابا !

اپنے وجود ہستی کو پہچان لےرے با با !!

 

 

 

(میرے پیرو مرشد بڑی شان والے

وہ مردہ دلوں میں بھی ہیں جان ڈالے)

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔