١٢٦- وَصلِ یَار

 

 

زندگی تو ہی بتا میں کیا کروں میں کیا کروں

ملتا نہیں دل کا پتہ میں کیا کروں میں کیا کروں

 

یہ سمجھتا میں رہا تھا دل میری جاگیر ہے

اس میں ہے اک دلرُبا میں کیا کروں میں کیا کروں

 

میں رہا تو تُو نہیں تُو رہا تو میں نہیں

ہو گیا میں لاپتہ میں کیا کروں میں کیا کروں

 

دل میں یہ ارمان تھا یار کو سجدے کروں

یار ہی سجدے میں تھا میں کیا کروں میں کیا کروں

 

وہ ہے مجھ میں عکس بنکر میں ہوں اس کا آئینہ

وہ ہے مجھ میں دیکھتا میں کیا کروں میں کیا کروں

 

وصل کی حَسّرت تھی مجھکو کٹ گئی میری زباں

وہ ہے مجھ میں بولتا میں کیا کروں میں کیا کروں

 

تم ہی داور ہو میرے داور محشر تمہیں

کوئی نہیں ہے دوسرا میں کیا کروں میں کیا کروں

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔