حرم کے رستہ سے مندر کی راہ سے آۓ
ابھی ابھی تو تیری بارگاہ سے آۓ
نہ پردہ اٹھا نہ چلمن کو ہوئی ہے جنبش
کایم بن کے تیری جلوہ گاہ سے آۓ
ہمارے ساتھ میں زاہد بھی میکدہ پہونچا
بڑا نصیب تھا بچ کر گناہ سے آۓ
کسی نے روک لیا ہم کو اپنی راہوں میں
نکل کے جس گھڑی تیری نگاہ سے آۓ
شریک غم تو ہزاروں تھے بزم جاناں میں
ہم اپنے آپ ہی اپنی پناہ سے آۓ
مزہ نہ جانا ہو جو موت کا وہ ہم سے ہے دور
جو مرچکے ہیں وہی میری راہ سے آۓ
بہت ہی سخت ہے اس شوق کی گلی داور
اِلا میں پھنس گئے جب لٓا اِلٰہ سے آۓ