باغ طریق مجھ کو دکھایا ہے دوستو!
میرا رفیق رستہ بتایا ہے دوستو!!
من عرف کے وہ علم سے بیدار کر دیا!
قد عرف کے وہ معنی سے ہوشیار کر دیا!
حبلل ورید دل میں بٹھا یا ہے دوستو!
میرا رفیق رستہ بتایا ہے دوستو!!
دل سے وہ دلمیں نقشہ جو میرے جمایا ہے!
ساتوں صفت کے درشن دریا سمایا ہے!
غواض مجھ کو اس کا بنایا ہے دوستو!
میرا رفیق رستہ بتایا ہے دوستو!!
کلمہ کی کل میں ایک صدف بھی عجیب تھا!
قدرت سے اپنی پیر مرا بھی طبیب تھا!
در محمدی کو بٹھایا ہے دوستو!
میرا رفیق رستہ بتایا ہے دوستو!!
معراج مومنین سے قائم کیا نماز!
میں پنجتن کے نور کا محمود ہوں آیاز!
قاب حضوری دل میں بسایا ہے دوستو!
میرا رفیق رستہ بتایا ہے دوستو!!
مرشد کا یہ کرم ہے کہ رب آشنا ہوا!
میری نظر میں یار بھی جلوہ نما ہوا!
کئی بار مجھ کو حج کرایا ہے دوستو!
میرا رفیق رستہ بتایا ہے دوستو!!
گو ہر مکان والا وہ آقا رفیق ہے!
وہ مہربان اور منور شفیق ہے!
داور کو دل سے کلمہ پڑھایا ہے دوستو!
میرا رفیق رستہ بتایا ہے دوستو!!