نہ دیکھ اپنی طرف پتھر بھی گو ہر ہو نہیں سکتا!
جو خود ہے اک قطرہ وہ سمندر ہو نہیں سکتا!!
بنایا نحن اقرب جس نے اپنے آپ میں زاہد!
کہ وہ پھر ہو گیا زندہ وہ کمتر ہونہیں سکتا!!
زمیں پر عرش اعظم سے اتر آیا کوئی غم کیا!
میرے وہ رہبری کے بھی برا بر ہو نہیں سکتا!!
خودی رکھ کر بناۓ ہیں خدا کا گھر یہاں ناداں!
خودی کو جو نہ سمجھا وہ قلندر ہونہیں سکتا!!
خدا کا حکم ہے زندہ خدا بھی ہے یہاں زندہ!
نہ دیکھا جس نے اس کو بینا اکثر ہو نہیں سکتا!!
على صورت خلق اس نے کہا ہے دادا آدم کو!
کوئی دنیا میں شان حق کا ہمسر ہو نہیں سکتا!!
یہاں داور مرا مرشد تو دنیا سے نرالا ہے!
کوئی میرے رفیقی کے برا بر ہو نہیں سکتا!!