رفیقی جو حق ہے ادا ہو رہا ہے!
تیرے در پہ سجدہ روا ہو رہا ہے!!
عجب اک تماشہ یہاں دیکھا مرشد!
کہ بھائی سے بھائی جدا ہو رہا ہے!!
مقام ایسا آتا ہے انساں پہ اک دن!
پہنچ کر جہاں وہ خدا ہو رہا ہے!!
فسادوں کی جڑ ہے بڑاپن یہ تیرا!
طریقہ یہ بھائی برا ہو رہا ہے!!
جتاتا ہے ہر دم تو جھوٹی محبت!
تیرے کارواں سب ریا ہو رہا ہے!!
حسد کینہ مغروری اور تکبر!
یہ سب رکھ کے تو پارسا ہو رہا ہے!!
رفیق آقا آکر بچا لینا سب کو!
کہ داور سے شکوہ گلا ہو رہا ہے!!