دل کے اندھے دل نہیں جانے کہتے ہیں دل والے ھیں
میری سمجھ میں یہ آتا ہے شیطانوں کے پالے میں
رب تو دل کو گھر کہتا ہے وہ خود اس میں رہتا ہے
وہ نہیں چاہتا تنہا رہنا ساتھ میں کملی والے ھیں
وہ سب کا ہے بندہ پرور میرے نبی ہیں اس کے ہمسر
ان دونوں کی ایک ہے مرضی دونوں رحمت والے ھیں
یہ کہتا ہے بندے ہیں میرے وہ کہتے ہیں اُمت میری
ان دونوں کا ایک ہے چہرہ ایک سانچے میں ڈھلے ہیں
رّب کو اگر تم کُن ہو سمجھے میرے نبی کو فیکُن سمجھو
ان دونوں کے چہرے نوری لیکن آنکھیں کالے ھیں
دل کوئی ایسی چیز ہے یارو دلبر اس میں رہتا ہے
دل آئینے جیسا ہے یا رویہ اہلِ خِرد کہے ڈالے ھیں
دل ہے ہیرا دل ہے موتی دل ہے شیشہ دل ہے گوہر
دلِ داور سے جاکر پوچھے دل کے بنانے والے ھیں