بے شک میرے وجود کو مِٹّی نہ کھائیگی
دِلی کو میرے یقین ہے وہ چھو نہ پائیکی
مجھ میں خُدا رَسُول یہ دونوں کا نور ہے
جس میں یہ دو کا نور ہے اسکو بچائیگی
جس نے لحد میں نور محمد کا لے گیا
اس کی لحد میں روشنی خود چل کے آئیگی
میرے رسول کو تو اجَل پوچھ آئی تھی
مجھکو بھی موت آئے گی تو پوچھ آئیگی
اللہ کے جتنے دوست ہیں، ہیں سب کے سب بقا
قُدرت بچائے جسکو اجَل کیا مِٹائیگی
جس نے رسول پاک کے کلمہ کو پڑھ لیا
دوزخ کی آگ اس کو جلانے نہ پائیگی
دیکھا جو رب کو دنیا میں آخِر بھی دِید ہے
داور تجھے ایمان کی طاقت بچائیگی