١١٧- نیار اکمال ہے

 

 

میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

 

میرے ہمسفر میرے ہمنوا مجھے چھوڑ دو میرے حال پر

میری منزلیں کوئی اور ہیں میرا راستہ کوئی اور ہے

 

کسی اور کا میں نصیب ہوں کسی اور کا ہوں میں مُدعا

مجھے دیکھنا کوئی اور ہے مجھے دیکھت کوئی اور ہے

 

میں کھڑا رہا رخ آئینہ وہاں عکس تھا کسی اور کا

ہے یہ آئینہ کسی اور کا میرا آئینہ کوئی اور ہے

 

تنِ سر پہ سب کے دو آنکھ ہیں اُسی آنکھ میں دوسراخ ہیں

یہ وجود کی ہیں دو کھڑکیاں وہاں جھانکتا کوئی اور ہے

 

یہ خدا کا نیار اکمال ہے مجھے منہ دیا ہے وہ بولنے

یہ زبان ہے میری نام کو یہاں بولتا کوئی اور ہے

 

یہ قلم نہیں ہے خیال ہے یہ تو شاعرانہ کمال ہے

داور خیال جو رکھدیا اسے جانتا کوئی اور ہے

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔