١١٦۔ یہ تماشا کیا ہے

 

 

میں ہی تیرا ہوں تو پھر اپنوں سے پردا کیا ہے!

چھپنے والے یہ بتا تیرا ارادا کیا ہے!!

 

میرا مرشد ہے خدا کعبہ ہے اس کی چوکھٹ!

تیرے کعبہ میں مگر زاہد رکھا کیا ہے!!

 

اپنے رب کا مجھے دیدار یہاں ہوتا ہے!

رب ارنی کی صدا حضرت موسیٰ کیا ہے!!

 

کہیں ایسا نہ ہو چہرے سے میں کھینچوں پردہ!

آ میرے سامنے عاشق کا بھروسہ کیا ہے!!

 

روبرو آۓ تو ہرگام پہ سجدہ میں کروں!

تو تو پردہ میں چھپا ہے یہ تماشا کیا ہے!!

 

بتکدہ کعبہ مرا اور صنم میرا خدا!

اپنی مسجد کا مجھے رستہ بتاتا کیا ہے!!

 

ہاتھ میں رکھتے ہیں ایمان کی عریاں شمشیر!

ارے زاہد میرے داور کو سمجھتا کیا ہے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔