١١٤۔ دماغ آسمان پر

 

 

پرواز میرے عشق کی ہے آسمان پر!

پایا ہوں یار کھیل کے میں اپنی جان پر!!

 

دیکھا جو اسکو غور سے بندہ نہ ہے خدا!

لیکن خدائی زندہ ہے اسکی زبان پر!!

 

بے دیکھے کر رہا ہے عبادت تو زاہدا!

اتنا غرور ہے کہ دماغ آسمان پر!!

 

دل میں تیرے عمل کا اب زنگ لگ گیا!

جیسے کے تیر کھینچ لیا ہو کمان پر!!

 

تو اب یقین کی کبھی منزل نہ پاۓ گا!

غالب ہوا ہے وسؤسہ تیرے گمان پر!!

 

دن رات ذکر کرتا ہوں پرور دگار کا!

میرا خدا ہے ہر گھڑی میری زبان پر!!

 

داور میرے رفیقی کے فضل و کرم سے میں!

ہر راز کھول دیتا ہوں اپنے بیان پر!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔