آنکھوں کی اس گلی میں ہے ایک شراب خانہ
پیتا ہی آرہا ہے صدیوں سے یہ زمانہ
آنکھوں کے میکدے کا ہے نظام کچھ نرالہ
اے نظرے سے پینے والے تو نظر نہیں پھرانا
میکش ہو یا ہو ساقی سب پر یہی ہے لازم
یہاں ظرف ہے ضروری ورنہ نہیں پلانہ
یہ نظر کا میکدہ ہے یہی ساقیا کا گھر بھی
یہ شراب میں چھپا ہے عرفان کا خزانہ
یہ شراب زندگی میں جسے مل گئی غنیمت
ہے ازل سے تا قیامت یہ شراب کا فسانہ
یہاں اہل ظرف کو ہی یہ شراب ہے میّسر
یہ شراب سروری آساں نہیں یہ پانا
یہ نظر کے میکدے کی سارے تلاش میں ہیں
داور کو مل گیا ہے یہ شراب کا ٹھکانہ ہے