قدموں سے تیرے آقا مجھ کو نہ جدا کرنا
مرجاؤںگا فرقت میں مجھ پہ نہ جفا کرنا
خورشید کی گرمی سے محشر میں بچا لو تم
آنکھوں میں چھپا لو تم کچھ مہرو وفا کرنا
تھک جاؤں گا میں آقا دن بھر کی مصیبت سے
آغوش میں تم لیکر آفت سے رہا کرنا
بے کس ہوں مُجرم ہوں عاجز ہوں خطا وار ہوں
جس روز حشر ہوگا دامن کی ہوا دینا
بلبل تیرے گلشن سے کیا دور ہو اچھا ہے
عاشق کو کبھی ہرگز دل سے نہ جدا کرنا
بس مَعاف کرو گوہر تقصیر میری ہر ایک
منور تیرا خادم ہے اس پر بھی وفا کرنا