صورت تری وہ کونسی ابتک زمیں نہ پاسکی!
تھیں آنکھیں تیری کونسی خاک نہ جو ملا سکی!!
یہ مصرع سن کے عجمئی آنسو بہائے زار زار!
آنکھ کا چھرہ کونسا اس کو زمیں نہ پاسکی!!
بصری حسن سے پوچھئے حق کی صدا ہے برملا!
حضرت دکھا کے یوں کہے ان کو نہ موت آسکی!!
قالو بلی کے قول کو پورا کیا اک آن میں!
حقدار حق ہی ہوگیا راز نہ دنیا پاسکی!!
اپنے ہی نفسوں میں بھری صورت فی انفسکم!
داور رفیقی راز ہے تہہ تک نہ دنیا جاسکی!!
(صورت تیری نگاہوں کے رہتی ہے سامنے
تصویر تیری رہتی ہے نظروں کے آر پار)