١١١۔ پیر کامل کو پردہ نہیں

 

 

نحن و اقرب کا قائیل نہیں جو اسکے مطلب کو سمجھ نہیں ہے!

کیا تصور خدا کا کریگا جس کو آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے!!

 

کیے سمجھاؤں من کانا تجھ کو قول رب پڑھ کے تو بھول بیٹھا!

کیسے دکھلاؤں تجھ کو میں ناداں تو حقیقت میں بینا نہیں ہے!!

 

دیکھ زاہد عبادت ہماری دل میں رکھتے ہیں اپنے صنم کو!

سامنے جب نہیں کوئی تیرے وہ عبادت وہ سجدا نہیں ہے!!

 

گنج مخفی میں احد چھپا ہے آنکھ والا اسے دیکھ لے گا!

روبرو آۓ گا وہ یقیناً آنکھ والے سے پردہ نہیں ہے!!

 

میں وہ موسی نہیں طور جاکر لنترانی سناؤں گا اس کو!

من رآنی کہا جب بھی میں نے میری نظروں سے چھتا نہیں ہے!!

 

دیکھنا ہے اگر اپنے رب کو آپ اپنے کو کھونا پڑے گا!

بات پردے کی پردے میں ہو گی ظاہری یہ تماشا نہیں ہے!!

 

میں نے آواز مرشد کو جب دی دفعتاً سامنے میرے آۓ!

میں ہزاروں میں کہہ دونگا داور وصل میں کوئی پردا نہیں ہے!!

-+=
اوپر تک سکرول کریں۔